کالونی سے کمپیوٹر تک

February 8, 2010 at 12:57 am | In نثری مضامین | Leave a Comment
Tags: , , , , ,

کالونی سے کمپیوٹر تک

تحریر   و  اشعار: محمودالحق

چند سال پہلے تک زندگی گزارنے کا ڈھنگ  مزاج فطرت میں تھا ۔ رہن سہن سے لے کر ملنے ملانے تک عزیز و اقارب ہوں یا احباب گھر  انہ گھرہستی سے مزین اخلاق و کردار تھا ۔جب مہمان آتے تو خوشی سے پھولے نہ سماتے بچے اور جب چھٹیاں ختم ہونے پر لوٹتے تو چہرے اداسی کی تصویر بنے رخصت کرتے اور جانے والے محبتوں کے تسلسل ٹوٹنے پر بھاری قدموں سے اجازت مانگتے ۔خوشیاں ایک پل کو جدا ہوتی محسوس ہوتیں ۔مگر یہ کیفیت زیادہ دیر تک قائم نہ رہتی ۔کالونی محلے میں ساتھ رہنے والےپھر ساتھ جڑ جاتے ۔قہقہوں پر صرف ایک گھر کا حق نہ ہوتا ۔ایک گھر سے نکلتے تو بلی کی طرح سات گھروں سے بھی آگے میزبانی کا مزہ چکھ کر لوٹتے ۔ہر گھر کھلے بازؤوں سے استقبال کرتا ۔کھیل کھیل میں کبھی ناراضگی ہو جاتی تو پھر صبح وہیں سے آغاز ہوتا ۔ غصہ تو تھا مگر نفرت کا پاس سے بھی گزر نہ ہوتا ۔سالوں سے ایکدوسرے کے قریب بسنے والے قربت کے ایسے رشتوں میں بندھے ہوئے تھے ۔کبھی کبھارملنے اور  دور دراز رہنے والےعزیز و اقارب  ان کے سامنے اجنبی لگتے ۔ روز ایک نئی کہانی کا آغاز ہوتا ۔شرارتوں کے قصے ہنسی مذاق میں زبان زد عام ہوتے ۔ عمر کے درجے ہی دوستی کے معیار تھے ۔ باپ اور بڑے بھائیوں سے بچوں تک دوستیاں سیڑھیوں کے پائیدان کی طرح ہوتیں ۔کھیل میں گروپ بازی نہ ہوتی ۔ آج ایک ٹیم میں تو اگلے دن دوسری ٹیم میں ہوتے ۔اتحاد و اتفاق تو تھا لیکن نفاق نہیں ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ترقی کا پہیہ جب چلا تو مزاج مسافروں کی طرح اس میں سوار ہوتا چلا گیا ۔رفتار بڑھتی چلی گئی ۔ سب ہی آگے کی طرف دوڑ پڑے  کیونکہ اب پیچھے مڑ کر دیکھنے کا وقت نہیں رہا۔ ہاتھ چھوٹنے کا دور گزر چکا ۔ اب تو ہاتھ ہلا کر رخصت ہونے کا وقت نہیں بچا ۔جنہوں نے اسی سفر میں جنم لیا وہ کالونی محلے کی چاشنی کو نہیں سمجھ سکتے ۔کیونکہ جس گھوڑے پر وہ سوار ہوئے ہوا   سے بھی تیز رفتار ہے ۔سینکڑوں ہزاروں میل پر پھیلی ریاست دو انگلیوں کی مسافت پر رہ گئی ہیں ۔وفا کا بھروسہ نہیں مگر عشق میں اندھا پن ہے ۔محبوب سات پردوں  میں چھپنے کا تو سنا تھا لیکن اب وہ  سات سمندر پار  بھی چھپتا  نہیں ۔ فاصلے سمٹ کر انگلی کی پور کی مسافت پر ہیں ۔ انٹر نیٹ کی دنیا سے جڑا یہ ہمارا  محبوب جان کمپیوٹر ہے ۔جس کے بارے میں بہت جگہ پڑھا کہ اب تو اس کے بغیر دل نہیں لگتا ۔اداسی چھا جاتی ہے ۔ بیویوں کے لئے تو سوکن کا درجہ حاصل کر چکی ہے ۔اور کنوارے روٹھے محبوب منانے کی طرح فورم کی گلیوں میں بے تحاشا چکر لگاتے ہیں ۔اب تو  دل کی قربتیں دھڑکن سے جڑی رہ گئی ہیں ۔جو گردش خون سے مسافت طے کرتی ہیں ۔ کبھی سوچا نہ تھا کہ میں بھی اس کی زلف دھاگہ کا اسیر ہو جاؤں گا ۔اور بیشتر فارغ وقت اسی کے ساتھ نغمہ گاتا پھروں گا ۔ لیکن آج  نفیس نفس انسان  کی تلاش،  وقت کی کمی کا شکار ہے ۔خواہش اور ضرورت ہوا پر سوار ہے ۔ہوا ترقی کی رفتار ہے ۔ اور انسان کبھی خوش تو کبھی بیزار ہے۔ کبھی کبھار تو سوچتا ہوں کہ بہتر ہو اگر کچھ وقت کے لئے توقف کر لوں ۔رفتار کی کمی سے ہیجان انگیزی میں کچھ بہتر نتائج سامنے آنے کے امکانات زیادہ ہیں ۔کمپیوٹر سے صرف گھر تک محدود ہو کر رہ گیا ہوں ۔ایک زمانہ تھا شہروں میں ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کا الگ الگ حلقہ ارباب تھا ۔ ہم صرف اپنی پسند کے ہی حلقہ اثر تک محدود رہتے ۔ مگریہاں  نہ چاہتے ہوئے بھی نظر پڑ ہی جاتی ہے ۔بچپن سے ہی گھر میں جو نظریہ موجود تھا اسی کے ساتھ ہی زندگی پروان چڑھتی رہی۔مگر جوانی ، معاشرہ ، مزاج ، رویے، کتاب، سیاست اور مذہبی خیالات و اعتقادات سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ۔سنی العقیدہ ماحول میں پرورش پائی ۔ بچپن میں کربلا گامے شاہ بھاٹی گیٹ  لاہور دوستوں کے ساتھ بھی جا چکے ۔مگر تربیت میں کیا کمی رہ گئی کہ صرف اپنے مسلک پر سختی سے کاربند نہیں رہے  ۔ دوسرے بھی قابل احترام تھے ہمارے لئے ۔درخت کی شاخیں چاہے کتنی بھی دور  تک کیوں  نہ پھیل جائیں ، آپس میں ان کا ربط بھی نہ ہو اور ہواؤں کے چلنے سے آپس میں ٹکراتی رہیں ۔ مگر جڑی ایک جڑ کے ساتھ ہیں ۔ وہیں سے آب گوہر قطرہ قطرہ سمو کر تنے کے ذریعے شاخوں پتوں تک پہنچتا ہے ۔ پھول کتنا بھی خوشبو دار کیوں نہ ہو ۔جڑ سے کٹ کر خوشبو تو در کنار خود بھی مرجھا جاتا ہے ۔

دے اس قوم کو ایسی جِلا

یہ پکار اٹھیں یا خدا یا خدا

سمجھ کر یہ تیرا فرمانِ ضیا

اپنی روح کو جسم سے کریں جدا

تائب ہوں جو اپنی خطا

ملیں انہیں فرمانِ اجلِ جزا

تحریص و ترغیب تو ہے ابلیسِ ادا

چھن جائے مسلم کی ایمانِ رضا

جو خود ہے وہاں سے نکالا گیا

تیرے لیے بھی چاہے گا ویسی سزا

گر نہ ہو لغزشِ تحریز پا

آئے ایک ہی صدا یا خدا کرم فرما

نہیں ہے وہ تم سے جدا

قلب تو ہے اسکی نورِ ربا

خارِ وفا تو ہے ہمیشہ کی فنا

رضاء خدا ہی کو ہمیشہ بقا

اتنی بھی کیا جلدی سانس لے ذرا

پہلا پڑائو ہے تجھے پھر ہے جانا

بن گیا ایندھن جو کٹ گیا

بچ گیا جو جَڑ سے جُڑ گیا

کمپیوٹر سے جو دوستی ہو چکی تو اس کی ہر  اچھی یا بری عادت کو اپنانا  تو ممکن نہیں مگر ایک بات کا خیال ضرور رکھا جاتا ہے کہ کہیں لکھتے لکھتے قلم شاخ کسی دوسری شاخ سے نہ چھو جائے ۔ نقصان شاخوں کا نہیں ہمیشہ پتوں کا ہوتا ہے ۔جنہوں نے مہکنا اور کھلنا ہوتا ہے ۔بنیادی طور پر میں ایک کم علم انسان ہوں ۔ بھاری کتابوں کا بوجھ میں کیا اُٹھا پاؤں گا ۔ زندگی بھر کےعمل کے لئے چند احکامات ہی کافی ہیں  ۔ کیا خوب کہا  اقبال (رح) نے ،عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے ۔ ہر فورم پر تاکیدی مضامین پڑھنے کو ملتے ہیں کہ ذاتیات اور بحث و مباحث سے  اجتناب برتا جائے۔

یہ سب اردو فورم کسی طرح کی کوئی خدمت انجام نہیں دے رہے ۔وقت کا ضیاع ہے نوجوان نسل کو تفریح فراہم کرنے کا انتظام ہے ۔ اس میں خوبیاں کم برائیاں زیادہ ہیں ۔ اگر میرے ساتھ کوئی بحث چاہتا ہے تو میں ثابت کرتاہوں ۔سنجیدہ نہ ہوں یہ صرف مثال کے لئے لکھے ہیں ۔ یہ حقیقت بھی نہیں ہے ۔ میرے یہ جملے کتنے لوگوں کو چبھے ہوں گے ۔ چندتنقیدی  جملے  خامیوں کے ساتھ ساتھ خوبیوں کو بھی لپیٹ جاتے ہیں ۔برداشت کےمادہ سےبہت سی خامیاں خود سے فنا ہو جاتی ہیں ۔چونکہ اب کمپیوٹر نے کالونی کی جگہ لے لی ہے ۔ تو اس رشتے سے ہم سب محلے دار ہوئے تو جناب مجھے تو آپ کو برداشت کرنا ہی ہو گا ۔ جو نہیں کرتے وہ شکریہ کے قریب سے بھی نہیں گزرتے ۔ اب نام لے کر پردہ نشینوں کو کیا بے پردہ کروں ۔ جتنا وقت ایک کالم لکھنے میں صرف ہوتا ہے اگر لطیفے لکھتا تو یقینا کمائی لاکھوں میں نہیں تو ہزاروں میں ضرور ہوتی ۔لیکن اس کام میں ہم ہمیشہ ہی ناکام رہے کیونکہ  ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے ۔ درد کی  داستان  میں پھولوں سے شناسائی کھو چکے ، کانٹے اعتبار کے قابل نہیں ۔میرا یہی تخیل شاعری میں خود بخود ڈھل جاتا ہے ۔ایک نشست میں لکھنا ہوتا ہے ۔ چاہے تو شعر ڈھل جائیں یا کالم ۔آج کا کالم حاضر ہے ۔ شعر چند ماہ پہلے لکھے تھے ۔ شاعری میں تو کوئی پڑھتا نہیں تو مجبورا کالم میں پھنسا دیتا ہوں ۔ کالم کے بہانے میرے اشعار جو شائد شعراء کرام کے ترازو پر پورے نہ اترتے ہوں ۔ وہ بھی نکل جاتے ہیں ۔میں کونسا  باقاعدہ شاعر یا قلم کار ہوں کہ کتابیں چھاپ کر رائلٹی لینی ہے۔اگر کوئی صرف پڑھ ہی لے تو ہمیں محنت کا صلہ مل جاتا ہے ۔شائد کسی دل سے دعا بھی نکلتی ہو ۔دعاؤں  ہی سے تو یہاں تک پہنچا ہوں ۔

کس سے اپنے درد کا اظہار کروں

کوئی تو ہو جسے راز دار کروں

اب تو پھول بھی شناسا نہ رہے

آخر کب تک کانٹوں پہ اعتبار کروں

میری داستان تو ہے ایک نوحہ کناں

سنا سنا کر کب تک بیزار کروں

بھر دے لب تک پیمانے کو ساقی

مدہوشی میں استادِ زمانہ کو برخوردار کروں

جہالت جہاں سے میں بے علم ہی اچھا

الف اقرا ہی کو اپنا علم سالار کروں

آبِ کوثر کی ایک بوند کا طلبگار ہوں

تیرے حکم کو کیسے اور کیونکر انکار کروں

مجھے درد کی دعا دے دوا نہ دے

تہی دامن خزاں کو بھی بہار کروں

زندگی گناہ دلدل رقص زمانہ آ گیا

February 3, 2010 at 12:08 am | In خندہ جبین | Leave a Comment
Tags: , , , , , ,

زندگی گناہ دلدل رقص زمانہ آ گیا

در توبہ جو کھلا مقام آشیانہ آ گیا

خوف سزا سےگرنہ مائل بہ کرم ہو

لزت جزا ہی سے خواب سہانہ آ گیا

ایک اکیلا راستہ انجان تو آباد گنجان

روح فقیری میں مزاج شاہانہ آ گیا

ترغیب ثروت میں عشرت ہوتی بیتاب

بچ گیا جب اٹھا شور دیکھو دیوانہ آ گیا

نفس مجہول سے زخم خوردہ قوم

محکومی نہ رہی جب انقلاب ترانہ آ گیا

شریک وصل امتنان ہیں باہم رحجان

مفارقت عدم میں رہنے کو بیگانہ آ گیا

قلب اشتیاق جنوں میں جو نغمہ سرا ہوا

زبان پہ میرے کلام عارفانہ آ گیا

ہر روپ الگ روپ میں رنگ جدا

آفتاب و مہتاب میں بھی موازانہ آ گیا

سب کو تو غائب ہے خود میں حضور

علم الف سے ہی حال میں رندانہ آ گیا

شکوہ کو نہیں ملتی تحسین پزیرائی

آنکھوں کو درد میں بھی مُسَخرانَہ آ گیا

وصف عشق میں رنگ ایک تو روپ جدا

ایک ہے آستانہ تو ایک کا افسانہ آ گیا


خندہ جبین / محمودالحق

واہ میرے شیر جوانوں

January 31, 2010 at 6:23 pm | In نثری مضامین | Leave a Comment
Tags: , , , , ,

واہ میرے شیر جوانوں

تحریر  :  محمودالحق

آج کل کہیں نہ کہیں سے کوئی نئی خبر ایسی مل جاتی ہے ۔ جس سے غصہ اگر نہ آ ئے تو ہنسی ضرور نکل جاتی ہے۔لطیفوں کا دور ہے ۔خوب مزے مزے سے خوش مزاجی کا اظہار خیال ہے ۔یہاں بتانا ضروری ہے کہ یہ لطیفوں سے آپ کیا سمجھ رہے ہیں  یہ تو میں نے لطیف کا استعمال کچھ نئے انداز میں کرنے کی کوشش کی ہے ۔ کیونکہ ہلکے پھلکے انداز میں گفتگو کو آگے بڑھایا جا سکے ۔ طبیعت پر گراں نہ ہو ۔آٹا ، دال چاول کی گرانی تو گراں گزرتی رہی ہے مگر آٹا ، پٹرول گیس سے تو جان کے گزرنے کا اندیشہ ہے ۔لیکن گیس پٹرول بھی جان لیوا ہوں گی کبھی سوچا نہ تھا ۔آج تک تو انجن اور چولہوں کی محبوب جان تھیں ۔اب ہماری جان پر بن گئیں ہیں ۔پٹرول پمپ مالکان گاہکوں کے انتظار میں خوش آمدیدی کلمات کے بینر لگاتے  سستے اور اچھے  مرغن کھانوں  کے ۔حالات نے کروٹ لے لی گلی محلے میں ہوٹلوں کی طرح سی این جی کھل گئے۔ بینر تو اب بھی ہیں مگر ڈسکاؤنٹ کے۔ کسی نے پرسنٹ میں رعائت کا اعلان طبل بجایا تو کسی نے روپے ہی لکھ دئے ۔جتنی بچت ایک ماہ میں ہوتی ہے ۔ اس کی  اب شائد دو کلو چینی نہ  مل سکتی ہو ۔مگر بچت کا قطرہ قطرہ سے ملے گا تو  خرچہ کا دریا بنے گا۔ بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ چادر سے زیادہ پاؤں نہ پھیلاؤ ۔ لیکن اب صورتحال ایسی ہے کہ پاؤں چادر کے قریب ہی نہ لاؤ ۔ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ بات تو میں نے لطیفوں سے شروع کی تھی مگر جانے انجانے میں سنجیدہ موضوع اختیار کر گئی ۔ حالانکہ میرا  آپ کو اداس کرنے کا ارادہ نہیں تھا ۔اتنے مسائل ہیں کہ ہنسی مذاق کرنا بھی اب ایک مذاق لگتا ہے ۔جیسے کسی شاعر نے کیا خوب کہا “تجھے اٹھکیلیاں سوجی ہم بیزار بیٹھے ہیں “۔

چلیں ایک گھر کی طرف آپ کو لے کر چلتا ہوں جہاں ایک نئی ملازمہ اپنی نئی مالکن سے گفتگو فرما رہی ہے ۔بی بی جی ! آپ کا گھر بہت خستہ بدبو دار تھا  ۔ مگر چند دنوں میں میں نے صفائی ستھرائی سے خوشبودار کر دیا ۔دانائی سے بھری بوڑھی مالکن یوں گویا ہوئی کہ اے کم عقل کمال تیرا نہیں  اس بدبو کا ہے جس نے تجھے بھی اپنا اسیر کر لیا ہے ۔

کافی عرصہ پہلے سننے کا اتفاق ہوا تھا لیکن آج ایک واقعے نے اسے پھر سے تازہ کر دیا ۔ٹی وی کے ایک پروگرام میں اینکرکاشف عباسی  کے ساتھ شیخ رشید ، احسن اقبال اور قمرالزمان کائرہ دوستانہ ماحول میں طنز و تنقید کے ساتھ ساتھ الزام تراشیوں میں لطیف استعاروں کا استعمال کر رہے تھے ۔اور میں احمق عوام کا نمائندہ  شاطرسیاسی جماعتوں کے نمائندگان کی گفتگو سے  محفوظ ہو رہا تھا ۔ان کے درمیان ہونے والے چٹکلے وقت گزاری میں ممدو معاون ہو رہے تھے ۔احسن اقبال بہت جوش و خروش کا اظہار کر رہا تھا اور مخالفین پر اصول و قوائد کی تلقین و نصیحت پر خاص زور لگا رہا تھا ۔کائرہ کا شیخ رشید کو مخاطب کرکے احسن کا ہاتھ تھام کر کہنا تھا کہ جب کوئی نیا نیا مسلمان ہوتا ہے تو وہ نماز روزے کا  پابند پیدائشی مسلمان سے زیادہ ہوتا ہے ۔احسن ابھی نیا نیا سیاست میں آیا ہے ۔ اس لئے اصول و قائدے کی بات کر رہا ہے کچھ عرصہ گزر  جائےٹھیک ہو جائے گا ۔ اس بات پر تینوں قوم کے شیر جوانوں نے ایک قہقہہ بلند کیا ۔ تو مجھے یہ خیال آیا سب ہی ایک تھالی کے چٹے وٹے ہیں ۔جو ٹی وی پر سر عام آ کر قوم کی بے حسی پر قہقہہے بکھیر کر چلے جاتے ہیں ۔اس امید کے ساتھ کہ اگلا دن پھر انہی کے نام سے طلوع ہوگا اور ہوتا بھی وہی ہے ۔ چینل بدلو پھر کہیں اور بیٹھے قوم پر لطیف انداز گفتگو سے طنز کر کے چلے جاتے ہیں ۔اور ہر الزام کا ایک ہی جواب ہے سب کے پاس عوام نے منتخب کیا ہے ۔ ووٹ دیا ہے کوئی ڈھٹائی  کا سرٹیفیکیٹ تو نہیں دے دیا  عوام نے۔بار بار جتلایا جاتا ہے ۔ بار بار غلطی دھرائی جاتی ہے ۔آنے کا راستہ تو سب کو نظر آتا ہے مگر جانے کا نہیں جیسے حکومت میں آنے کا جانے کا نہیں ۔ ورلڈ بینک یا آئی ایم ایف  سے قرضہ  آتا تو نظر آتا ہے جاتا کہاں ہے، کاغذ ہی گم جاتا ہے ۔بینک زکواۃ کاٹ لیتے ہیں جاتا کہاں ہے ۔ اخباروں میں بھی چھپ چکا ، جہاز بھر کر حکمران عمرہ کی سعادت سے ثواب  حاصل  کرچکے۔غریب  و لاچار کس کسمپرسی سے زندگی کے دن گزارتا ہے ۔ کبھی  باسٹھ سالوں میں  ارباب اختیار  نے ضرورت محسوس نہیں کی ۔

آج بھی ایسا  محسوس ہوتا ہے تقسیم ہندوستان کے وقت مہاجرین کی ٹرین سٹیشن پر آ کر رکتی ہے ۔ اور بے یارومددگار لٹے پھٹے کارواں آس وامید سے ٹرین پر سوار ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔مگر ٹرین چھوٹ جاتی ہے اور ان میں سے چند لوگ قافلے کو پیچھے چھوڑ کر خود اس ٹرین میں سوار ہو جاتے ہیں ۔قافلے بڑھتے جارہے ہیں ۔ ٹرین آتی ہیں ۔ ان میں سے چند طاقتور اور زورآوروں کو ساتھ سوار کر کے لے جاتی ہے ۔پیچھے رہ جاتے ہیں کمزور غریب لاچار ۔ پھر نئی ٹرین کی آس لگا کر کہ شائد اس بار ہم بھی اس میں سوار ہو سکیں ۔پلیٹ فارم پر پڑے پڑے کئی نسلوں سے کئی ٹرینیں چھوٹ گئیں ۔ مسافروں کے قافلے  اب رہائشی ہیں وہیں کے ۔زیادہ تر نے ٹرین کے آنے جانے کو اہمیت دینا چھوڑ دیا ۔ کچھ آج بھی امید لگائے ہیں کہ سب مسافر اس نئے سفر پر ضرور روانہ ہوں گے ۔ اور چند ہر بار قافلے کو چھوڑ کر ٹرین پر چڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بعض پہلی کوشش میں تو بعض دوسری یا تیسری کوشش میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔   اب تو مسافر اتنے ہو چکے ہیں کہ  ایک ٹرین  میں پورے نہ آ سکیں ۔ اگر پہلی ٹرین سے ہی  انہیں ساتھ لے کر چلا جاتا تو آج سب ہی منزل تک پہنچ چکے ہوتے ۔پلیٹ فارم پر آس و امید کی تصویر بنے نظر نہ آتے ۔

قہقہے آنسوؤں کے دامن گیر

January 30, 2010 at 3:49 pm | In نثری مضامین | Leave a Comment
Tags: , , , , ,

قہقہے آنسوؤں کے دامن گیر

تحریر و اشعار  :  محمودالحق

روزانہ ہی ایک طرح کی اپنی زندگی جینے کی عادت نے دن میں روشنی اور رات میں تاریکی کی چادر اوڑھ رکھی ہے ۔ اب تو آنکھیں بھی وہی منظر دیکھنا پسند کرتی ہیں جو انہیں بار بار دیکھایا جاتا ہے ۔ جوں جوں نظارہ وسیع ہوتا جارہا ہے آنکھیں سکڑتی اور روشنی کم پڑتی جارہی ہے ۔ زندگی کے بیتے دنوں کی یاد نے ستانا شروع کر دیا ہے ۔ جب قہقہے ایسے گونجا کرتے کہ اگر کہیں سے رونے کی آواز آ جاتی تو سب لوگ اپنی توجہ صرف اسی طرف کر لیتے اور قہقہے آنسوؤں کے دامن گیر ہو جاتے اور پل بھر میں اپنی آغوش میں سمیٹ کر مسکرانے پر مجبور کر دیتے ۔ خوشیاں اتنا اپنا پن چھوڑ جاتیں کہ رونے کے لئے بھی کوئی بڑی وجہ چاہیئے ہوتی ۔ نہ جانے کیوں زندگی ایسا کھیل کھیل جاتی ہے ۔ پتھروں جیسے حوصلہ رکھنے والے فولاد کی بھاری ضربوں سے توڑنے جاتے ہیں ۔ آنسو جن کے قریب سے نہ گزرے ہوں وہ ان میں بہہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالی پر توکل کرتے کرتے انسانوں سے شکوے بھی ختم ہو جاتے ہیں ۔ مگرعقل کی معراج پانے والے دلوں پر کشت و خون بہا دیتے ہیں ۔ وہ انسان جو زندگی میں اس منزل کے مسافر ہیں جس کا انجام اسی فانی دنیا میں بھگت کر جانے والے ہیں ۔ مگر پھر بھی انہیں راستوں پر گامزن ہیں جہاں ان کے قہقہے چیخوں کی مانند ہیں ۔ اپنے جائزحق کو بھی پانے کے لئے نفرت کی ایسی آگ بڑھکاتے ہیں ۔ کہ آنکھیں حسد و نفرت کی جلتی آگ کے آنسوؤں سے قہر آلود ہو جاتی ہیں ۔ اور بجھتی تبھی ہے جب وہ حوس و حرص کے پانی سےسیراب ہو ۔ اپنی ذاتی خواہشوں کی تکمیل میں ہر رشتہ دھوکہ کی سولی پر لٹکا دیا جاتا ہے ۔ پھر بھی توقع بدلے میں اچھے ہی کی جاتی ہے ۔ عفو و درگزر کر دینا ایسا فعل ہے کہ جسے اللہ اور اسکے رسول محبوب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پسند فرمایا ہے ۔ برائی کا بدلہ برائی سے نہ دیا جائے ۔ جو بھٹکے ہوئے ہیں ان کے لئے اللہ تعالی سے ہدایت کی دعا کی جانی چاہیئے ۔ معاف کر دینا چاہیئے جن سے دل دکھے ہوں کڑوی کسیلی باتوں سے ، اختلافات سے ، اعتراضات سے ، نظریات سے ، حسد سے ، جلن سے ۔ مگر وہ جو فتنہ و فساد پھیلانے کا موجب ہو جائیں ۔ بھائی کو بھائی سے جھوٹ اور مکاری سے آپس میں لڑوانے کی سازش کریں ۔ ہمدردی کی اوٹ سے ذاتی مفاد کی خواہش تکمیل میں خاندانوں میں ، بھائیوں میں جھوٹ اور بہتان طرازی سے زہر بھر دیں ۔ وہ نہ تو اس دنیا میں سرخرو ہیں اور نہ ہی اُس جہاں میں ۔ اپنی جھولیاں جس انگار سے بھرنے کے لئے اپنی زبان پر انگار رکھتے ہیں اسی سے جلتے ہیں ۔ جو اللہ اور اسکے رسول محبوب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان زبان سے نہیں دل سے رکھتے ہوں ان کے تمام معاملات راضی بالرضا ہوتے ہیں ۔ توکل سے تحمل و برد باری کی زمین تیار ہوتی ہے ۔ عفو و درگزر کی فصل بوئی جاتی ہے ۔ اور رحمتوں کے پھلوں سے جھولیاں بھری جاتی ہیں ۔

حاسد حسد سے جل کر خاک ہوتا ہے

صابر صبر کے پھل سے پاک ہوتا ہے

کینہ و بغض تو کرتے ہیں رزق کا شکار

راضی بالرضا سے توکل بیباک ہوتا ہے

باطل تو ہے با سبب بد اعمال

بردباری تو حق کا ادراک ہوتا ہے

قلب کو یاد آنچ میں گرماؤ تو اچھا ہے

آتش کا حد سے بڑھنا تشویشناک ہوتا ہے

چاہ طلبوں کو تو چاہیے منزل الماس

فقہاء کا تو فقر ہی پوشاک ہوتا ہے

کھولے جو بند گرہ تلاش راز کو

بہتان طرازی کا جرم بڑا انجام المناک ہوتا ہے

قانون فطرت

January 30, 2010 at 3:35 pm | In نثری مضامین | Leave a Comment
Tags: , , , ,

قانون فطرت

تحریر و اشعار  : محمودالحق

آج کوئی خاص بات  ضرور ہے۔ ہر ایک  تیز قدموں کے ساتھ کھلے میدان کی طرف بھاگا چلا جا رہا ہے ۔آپس میں چہ مگوئیاں کر رہے ہیں ۔ کہ ایسی بھی کیا آفت آ گئی ۔  بادشاہ کا بلاوا تھا کس کی مجال کہ حکم سے روگردانی کرسکے۔کافی عرصہ سے دانا اور بزرگ اس اہم مسئلہ کی  طرف توجہ دلانے کی کوشش کر رہے تھے ۔ آخر کار بادشاہ اور اسکے رفقاء کار کھلے میدان میں دربار کے انعقاد   پرمجبور ہوئے ۔ رعایا کو اب  اپنے بڑھتے مسائل پر پریشانی کا سامنا تھا ۔ مجلس عاملہ کے لئے اونچا پنڈال نہیں بنایا گیا تھا ۔ بلکہ ایک نسبتا  اونچی  چٹان پر تمام طاقت کے سرچشمے براجمان تھے ۔ہر قبیلہ سے ایک بڑی تعداد میں شرکت کی گئی تھی ۔شور اس قدر تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔آخر کار بادشاہ سلامت کی آمد کے ساتھ ہی میدان میں خاموشی نے بھی ڈیرہ ڈال لیا ۔ بادشاہ نے  میدان میں پھیلے ہجوم پر ایک نظر ڈالی اور گویا ہوا کہ اپنا مدعا بیان کیا جائے ۔کچھ دیر تمام آپس میں صلاح مشورہ کرتے رہے کہ کسے اس معاملہ کو بیان کرنے کے لئے چنا جائے ۔ بالآخر ایک بوڑھا بارہ سنگھا   آگے بڑھا اور اپنا مدعا بیان کرناشروع کیا ۔ جناب ہم ان جنگلوں میں صدیوں سے آباد ہیں ۔ہم سب قانون فطرت کے اندر رہتے ہوئے  زندگی گزار رہے ہیں ۔مگر کبھی بھی کسی کو آپس میں یا بادشاہ سلامت آپ سے شکایت نہیں ہوئی ۔ جناب  آپ سب طاقتور ، زور آور  ہیں ۔ ہم آ پ کے مقابلے میں کمزور و ناتواں ہیں ۔ قانون فطرت میں رہتے  ہوئے ہم موت سے بچنے کے لئے آپ کے سامنے بھاگتے ہیں ۔ اور آپ زندگی کو پانے کے لئے ہمارے شکار پر مامور ہیں ۔زندگی میں ایک پل ہی ایسا ہوتا ہے جب ہمیں موت کے چنگل سے بچنا ہوتا ہے۔اور آپ زندگی جینے کے لئے بچوں  اور لاغروں کی بجائے صحت مند و توانا پر اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہیں ۔سبز و ہریالے میدان ہوں یا پانی کے گھاٹ ، آپ سے زندگی جینے کی بھیک نہیں مانگتے ۔ اپنے زور سے موت سے چنگل سے بچتے ہیں ۔تالابوں میں مگر مچھ ہماری تاک میں رہتے ہیں ۔لیکن ان سب کے باوجود قانون فطرت کو قبول کر چکے ہیں ۔کیونکہ ہمارا شکار کرنے سے ہماری تعداد میں کمی نہیں ہوتی اور شکار کرنے سے آپ کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوتا ۔صدیوں سے ہمارے اور آپ کے درمیان تعداد کا جو تناسب ہے وہ کبھی بھی نہیں بگڑا ۔ یہی قانون فطرت ہے۔یہ معاملہ صرف آپ کا اور ہمارا نہیں ہے بلکہ اس جنگل میں رہنے والے ہر ایک باسی اسی قانون فطرت پر زندہ رہتے ہیں ۔ کمزور شکار روز ہوتے ہیں  مگر وہ ختم نہیں ہوتے ۔ شکار کرنے والے ناپید ہو جاتے ہیں ۔جیسے ڈائنوسار جوکبھی دہشت کی علامت تھے مگر آج ہڈیوں کے ڈھانچے باقی بچے ہیں ۔ لیکن آج صورتحال مختلف ہے  ۔ہمیں  زندہ رہنے کے لئے جس ماحول کی ضرورت ہے ۔ وہ ختم ہوتی جارہی ہے۔پہلے پہل تو انسانی آبادی کے قریب قریب درختوں کو کاٹ کر ایندھن بنایا جاتا تھا ۔ اب تو انتہا یہ ہے کہ نت نئے ڈیزائن اور خوبصورتی کی تلاش میں ہمارے خوبصورت جنگل تخت مشق بنے ہوئے ہیں ۔اگر بات یہیں تک ہوتی تو ہم صبر کر لیتے کہ ہمارے جینے کے لئے بہت کچھ باقی ہے ۔مگر اب تو انہوں نے اپنے گھروں کو چکاچوند روشن کرنے کے لئے دریاؤں پر بھی بند باندھ دئیے ہیں ۔پانی کی پیاس بجھانے کے لئے دور دور بھٹکنا  پڑتا ہے ۔ہم سبھی چوپائے اور پرندے  قانون فطرت پر زندہ رہنے والے آج پابند زمانہ کر دئیے گئے ہیں ۔لیکن صرف اتنا نہیں بات تو اور بھی آگے بڑھ چکی ہے ۔ہمارے بہت سے ساتھی قیدی بن چکے ہیں ۔ہمیں موت سے ڈر نہیں لگتا مگر قید ہمیں موت سے بھی بدتر ہے ۔ ہمارے مخبر جاسوس پرندے جو خبریں لاتے ہیں ۔وہ دل لرزا دینے والی ہیں ۔کیسے انہیں تنگ  و تاریک کوٹھڑیوں میں قید رکھا جاتا ہے ۔ گرمی پسند کرنے والے سرد علاقوں میں اور سرد ہواؤں کے باسی گرم علاقوں میں قید رکھے جاتے ہیں ۔بلند پرواز رکھنے والے پرندے شکایت کرتے ہیں کہ اونچی پرواز میں اب تو دم گھٹتا ہے ۔ اتنی  دھواں بھری گرد آلود ہوائیں ہیں ۔ کہ زیادہ دیر تک وہاں پرواز ممکن نہیں رہی ۔بیماریاں ایسی ایسی ہیں کہ شکار کی موت سے شائد بچ جائیں مگر ان سے بچنا ممکن نہیں رہا ۔بادشاہ سلامت ہم سبھی پیدا تو قانون فطرت پر ہوتے ہیں مگر انسان ہم سے ایک قدم آگے ہے ۔کیونکہ اس قانون فطرت میں رخنہ ڈالنے والا شیطان ان کا ہمعصر ہے ۔جو انہیں ترغیبات و خواہشات کا تابع رکھنے میں اپنی ساری توانائیاں خرچ کرتا ہے ۔خود تو وہ نت نئے ہتھیاروں سے لیس ہو کر خود کی تباہی کا سبب بنتا ہی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمارے شکار سے تسکین و تسفی پا  تا ہے ۔ ایسی ایسی ایجادات کر چکا ہے ۔کہ ہم جیسے شکاری کے جال پھیلانے کو اپنے کانوں اور آنکھوں سے بھانپ لیتے تھے ۔مگر اب اتنے فاصلے سے ہم پر وار کرتے ہیں کہ ہمیں کانوں کان خبر نہیں ہوتی ۔بادشاہ سلامت ہم جس مشکل کا شکار ہیں ۔جینے کے لالے پڑے ہیں ہر طرف سے گھر چکے ہیں ۔نئی نسل کو کچھ بھی تو بتانے کے قابل نہیں رہے ۔فطرت پر زندگی گزارنے کی بجائے جان بچانے کے لئے آگے سے آگے بڑھتے جارہے ہیں ۔جہاں جینا تھوڑا بہت آسان ہو جائے۔اور سانسوں کو چند مزید لمحوں کی مہلت مل جائے۔ہم جانتے ہیں بادشاہ سلامت  کہ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ان سب باتوں کا  آپ سے کوئی تعلق نہیں ۔کیونکہ آپ ہمارے خون سے سیر ہو جاتے ہیں ۔ تو پھر آپ کو ان کے بتانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔کیونکہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو آنے والی صدیوں میں ہم کمزور وں کی ہڈیاں تو زمین میں ہی دفن رہیں گی ۔مگر آپ  طاقتوروں کی ہڈیاں ڈائنوسار کی  طرح جوڑ کر عجائب گھروں میں سجائی جائیں گی ۔ اور کتابوں میں  آپ کی دہشت اور شکار کی مہارت کا اندازہ آپ کے دانتوں اور ناخنوں کی طاقت سے لگایا جائے گا ۔ہم گوشہ گمنامی میں رہیں گے مگر آپ سکرین پر زندگی کی علامت بن کر ابھریں گے ۔زندگی میں تو ہم سکون سے شائد جی نہ سکیں مگر موت کے بعد آرام ہی آرام ہو گا ۔ اور آپ موت کے بعد بھی ہڈیوں سے جڑ کر بننے اور ٹوٹنے کے عمل جراحی سے گزرتے رہیں گے ۔زمانہ شائد ہمیں بھول جائے مگر آپ کو  بھولنے نہیں دے گا ۔

تیری پرواز سے بہت اگے ہیں تیرے مقام
جس کی تجھے تلاش اس سے اگے تیرے انعام
پلٹتے نہیں وہ اپنی منزل سے پہلے
اورٹھہرتے بھی نہیں وہ بعد از شام
ذوق اشتیاق تو ہے ان کا شب بھر کے لیے
کیا خوب نبھاتے ہیں وہ حکم بنا کسی امام
نہ آرزو ہے نہ خواہش حسد و جلن سے پاک
دیتے ہیں اشراف کو محبت کا پیغام
ایک سے ہوں ہزار نہ مجمع نہ ہجوم
سمجھو تو اصل میں ہیں وہ اقوام
سلب آزادی کے خوف سے ہیں دبکے ہوئے
اشراف کو گمان ہے یہ ان کا احترام
کیسی کیسی خوبیوں کے مالک مختار
پھر بھی نہیں ان میں ناز و اندام
فطرت ثانیہ میں وہ ہیں مکمل آزاد
پھر بھی ہیں ان پر بیوفائی کے الزام

سپیدئ اَوراق کرن سیاہ میں چھپائی

January 26, 2010 at 11:15 am | In نثری مضامین | Leave a Comment
Tags: , , , , , , , , ,

سپیدئ اَوراق کرن سیاہ میں چھپائی

تحریر و اشعار : محمودالحق

کبھی پہاڑوں سے دھول اُڑتی ہے  ۔توکبھی سمندر کی لہریں ہوا کے زور پہ  ساحل سے آگے بستیوں پر قہر بن جاتی ہیں ۔بادل گرج کر جب برس جائیں ۔تو پانی بہا لے جاتے ہیں ۔اگرسفید روئی کی طرح نرم حد سے گزر جائیں تو راستوں ہی میں جکڑ دیتے ہیں ۔تسکین تکلیف میں بدل جاتی ہے ۔زندگی جو بچ جائے وہ  جدا ہونے والوں کی یاد بھی بھلا دیتی ہے۔ایک سے بڑھ کر ایک منظور نظر جب بپھر جائیں تو قیامت سے کم نہیں ہوتے ۔مگر ایسے حسین مناظر کی تصویر کشی کرنے والے خود سے کیوں بہک جاتے ہیں ۔جن کے دم سے رونق افروز  ہیں انہیں پر آفت بن کر ٹوٹتے ہیں ۔بے ضرر دکھنے والے خدائی طاقت کا اظہار ایسے کرتے ہیں کہ جینا بھلا دیتے ہیں ۔زمانہ قدیم کی  مدفن تہذیبوں سے  ہم  صرف ٹوٹے برتنوں کو ہی جوڑ پائے ہیں۔مگر منوں مٹی کے نیچے دبنے سے لا علم ہیں ۔  ساری بستیاں ہی زمین دوز ہو گئیں ۔صرف  سخت مٹی سے  بنائی ہی خاک ہونے سے بچی رہیں ۔ خاک چاٹنے والی ہر شے  کو خاک نے خاک کر دیا ۔ امارت رکھنے والے اپنے پیچھے کوئی ایسا نشان بھی نہ چھوڑ پائے  کہ آج تاریخ کی کتابوں میں ہی زندہ رہ جاتے ۔ ان کے نزدیک زندگی کے کیا معنی تھے ،انسانیت کی کس معراج پر مقام رکھتے تھے ۔ طاقت کا توازن کیسےبرقرار رکھا گیا۔اپنی حدود کا تعین کرنے میں کیا حکمت عملی کارفرما تھی۔قرض دینے میں کیا شرائط طے کرتے ،غلام بنانے کے لئے جبر کا کونسا ہتھیار استعمال کرتے ۔جنگ و جدل میں زندگی برباد کرتے یا تجسس و تحقیق میں توانیاں صرف کرتے رہے وہ۔زمین سے تو لا تعلق تھے  مگر آسمانوں پر چمکتے ستاروں سے جڑے رہتے  ۔کبھی وہ سورج کو مالک کائنات سمجھ لیتے تو کبھی آگ دیوتا  کا روپ دھار لیتے۔عقل و شعور  کا جب ادراک  حد سے بڑھا  ،تو تخیل میں پرستش عمل سے  اپنے ہی ہاتھوں  سے بنائے بتوں  کے سامنے سجدہ ریز ہوتے اورمعاشرتی اقدار کا من مانے طریقے سے اظہار کرتے ۔بیٹوں کی پیدائش پر شادیانے بجاتے تو بیٹیاں  عزت کے نام پر زندہ دفن کر دیتے۔انسان قبیلوں میں اور قبیلے طاقت کی بنیاد پر اپنے وجود کی اہمیت کا احساس دلاتے۔ کمزوروں کو جھکنے کی عادت نے زندہ رہنے کی مہلت دی۔ طاقتور کبھی بلا تو کبھی فنا کے اصول پر دست اندازی کرتے۔قانون قدرت کے بر خلاف نفس شیطان کے پیروکار رہنے میں بلند مرتبہ کی حاجت کے متمنی رہتے۔ انقلابات زندگی نے انسان کو ہمہ گیر جہت مسلسل کی بجائے ہمگیر جہالت کفر کے لبادے میں اوڑھا دیا۔ ترغیب و تحریص نے پامالیء انسانیت کا پرچم نیزے کی نونک پر بلند رکھا۔اپنی گردن اکڑا کر تلوار سے  دوسروں کی گردنوں کو کاٹ کر جھکا دیا جاتا۔ بھیڑ وں اور اونٹوں کی طرح منڈیوں میں غلاموں کی تجارت کا بازار گرم رکھا جاتا۔ شہزادگی کی زندگی شکست  خوردہ ہوتے ہی غلامی میں بدل جاتی۔ فتح کے نشہ میں معافی و درگزر کا  قریب سے بھی گزر  نہ ہوتا۔ایسے میں اللہ تعالی  نےقبیلہ قریش میں اپنے پیغام انسانیت اور مقصدانسانی  حیات کے پہنچانے میں اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو صادق و امین کے رتبہ پر پہلے ہی سے فائز تھے کو غیر انسانی و غیر اخلاقی  نظام ہستی کو نظام  وحدت میں پرونے کے لئے ہدایت اور دین حق دے کر مبعوث فرمایا۔اللہ تعالی کے توحید کے پیغام کو معاشرےکے سدھار کے لئے پہلا راستہ اختیار کیا گیا۔جب  خد اتعالی کی حاکمیت اعلی کو تسلیم کر لیا گیا ۔ تو زندگی کے تمام معاملات کو اسی کی ذات کے ساتھ منسوب رکھنے میں ہی نجات کا راستہ  دکھا دیا گیا ۔ خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نےارشاد  فرما یا !

ہاں جاہلیت کے تمام دستور آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر ، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب سے ۔میں تم میں ایک چیز چھوڑتا ہوں۔ اگر تم نےاس کو مضبوط پکڑ لیا تو گمراہ نہ ہوگے وہ کیا چیز ہے؟ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ  ۔

سپیدئ اَوراق کرن سیاہ میں چھپائی

حرف علم زماں میں مفہوم ہے خدائی

چر رہ دے دل فگار کو عقل کلیم سے

نہیں مشکل کاٹ دے پہاڑ کو ایک رائی

خزانہ تو ہے مدفن یا درافتن

اتنا تو صرف ہے آدم کی پزیرائی

اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نےیہ بھی  ارشاد  فرمایا  !

تمہاری اس سرزمین میں شیطان اپنے پوجے جانے سے مایوس ہو گیا ہے لیکن دیگرچھوٹے گناہوں میں اپنی اطاعت کئے جانے پر خوش ہے اس لیے اپنا دین اس سےمحفوظ رکھو!

تحریص و ترغیب تو ہے ابلیس ِادا

چھن جائے مسلم کی ایمانِ رضا

قرآن مجید اور سنت نبوی کے بعد کسی بات کی گنجائش نہیں رہ جاتی  ۔  مگرلفظوں کی حقیقت   ، ماہیئت اور ہیئت سے الگ  نقطہ نظر معنی پوشاک کر دئیے جاتے ہیں ۔ صرف علمیت کو فوقیت کے درجے پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ لفظوں کو گھٹانے بڑھانے کے عمل سے ایک الگ رویہ تلمیح اختیار کی جاتی ہے۔ مفہوم کو سمجھنے کے لئے  ذاتی  علمی آراء کا اظہار پسند و ناپسند کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ معنی و مفہوم کو بھی پسند کی کسوٹی پر پڑھا جاتا ہے۔ اسی پسند نا پسند کی بنیاد ی وجہ عناد  نے مسلم قومیت کو تقسیم در تقسیم کر دیا ہے۔

کائنات قرون میں پھر پڑھنا سبق قرآن واللہ احد

بختاور بے کراں میں ابجو ورد ِمسلمان اللہ الصمد

خود پرستی میں مبتلا قوم عمار کھوتی رہن متاع ِمحبوب

نہیں بے سبب ارتقا ءآدم عالم ِتنہا میں جہان ِواحد

آرمیدن نستعلیق میں دستگیری تضاد قال و قول

طلوع اسلام کے پہلے پیغام و صف آرائی مسلمان کا نام احد

حسرت ِحالی پہ غالب داغ ِمیر تو درد ِاقبال

ترتیب زیاں میں نہیں بہر و بند بچتی صرف خاک لحد

آنکھ میں دیکھنا سرور تو قراری قلب میں بیقراری ہو

قلب طہور میں آتی سرور جاں پڑھتے جب کفو احد

گل میں خار

January 24, 2010 at 6:26 pm | In موسل بار | Leave a Comment
Tags: , , , , , , , , ,

زمانہ پھر بھی رہ جائے گا

January 16, 2010 at 2:25 am | In نثری مضامین | 1 Comment
Tags: , , ,


زمانہ پھر بھی رہ جائے گا

تحریر : محمودالحق

کوئی بھی کام مشکل نہیں ہوتا اسے نا ممکن ہم خود بنا دیتے ہیں۔ اگر مگر کی تکرار سے اپنی سہولت کی خاطر۔تن آسانی کی عادت اتنی آسانی سے چھوڑنے کو من نہیں چاہتا۔ رائی نظرآنے والی شے پہاڑ سے بھی بھاری پن کا احساس دلاتی ہے۔ اندھیرے میں چشمہ ڈھونڈتے ہوئے پاؤں ٹھوکر نہ کھائیں تو سمجھ بوجھ ،عقلمندی سے تعبیر کرتے ہیں ۔زندگی کی معمولی کامیابی کے قصے فاتح عالم کے انداز تکلم میں بیان کرنے میں فخر زماں کا لقب پانے میں حق بجانب سمجھتے ہیں۔ اور اسے سمجھنے میں افلاطون اور سمجھانے میں ارسطو سے بھی اگے نکل جاتے ہیں۔ میں کے کنواں میں اپنا ہی عکس دیکھ کر پھولے نہیں سماتے ۔پہاڑوں میں پلٹ کر آنے والی اپنی ہی آواز کی گونج سے منور رہتے ہیں ۔ کنواں سے پانی لا کر مٹکے بھرنے سے جو تسکین ملتی ہے۔ مٹکے کےپانی سے پیاس بجھنے میں نہیں ۔کولہو کا بیل واپس لوٹنے پر کوسوں میل کی مسافت کی تھکاوٹ کے احساس سے چور ہوتا ہے ،کوا چھت کی منڈھیر پر بیٹھا گھر والوں کی نظر بچا کر راہزنی کی تاک میں رہتا ہے، کوئل تنہا درختوں کے جھنڈ میں چھپی اپنی ہی دھن میں مگن گنگناتی رہتی ہے، طوطے اپنی آوازوں سے ہنگامہ برپا کرکے پھلوں کے پکنے کا اعلان کرتے ہیں ، قاصد کبوتر پیغام رسانی ہی سے محبوب نظر ہو جاتے ہیں ،شہباز بلندیوں کی اپنی حدود میں داخل ہونے والوں کے لئے اجل کا پیغام بن جاتے ہیں ، بہار میں کھلتے پھول بڑی چونچ کی چڑیا کو دعوت طعام دیتے ہیں اور جو آگ کو چکھتے ہیں آگ ہی سے جلتے ہیں ۔ سر اٹھا کر اونچے پتوں تک جانے والے باندھ کر پتوں ہی پر جھکا دئیے جاتے ہیں ، خود شکار کرنے والے قید میں ہڈیوں سے گوشت کو نوچتے ہوئےغرانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ، کمزور کی آنکھ اسکی مفلسی و لاچاری کی علامت بن جاتی ہے۔ طاقت کا نشہ خوف بن کر نظروں میں اتر آتا ہے۔وہ ہماری قید میں ہیں ہم زمین کی اور زمین نظام شمسی کی قید میں، سارا جہاں ہی قید کی ایسی زنجیروں میں جکڑا ہے۔ جو ایک پل کے لئے بھی خود کو جدا نہیں کر سکتا۔ ہمارے قیدی ہماری تابعداری میں رہیں اور ہم نا فرمانی میں۔زمین کو حکم نہیں کہ حدوں سے باہر چلی جائے ۔ چاندنیء مہتاب کو رخصتی کی اجازت نہیں اورآفتاب کو روشنی پھیلانے میں کمی کی۔جو وجود چند ہزار قدموں سے زیادہ کی سکت نہیں رکھتا آسمان پہ کمندڈالنے کا خواہش مند ہے۔مٹی کی بندشِ قید تو مٹی تک ہے۔ روح کی آزادی ہی انہیں کائنات کی تحقیق پر آمادہ کرتی ہے ۔جو آزادی ہمیں نصیب ہوئی چند خواہشات کے بدلے میں اسے گروی رکھ دیا۔ہم سے جو کہا کہ جہاں میں پوشیدہ کیا کیا ہے ۔ہم نے فائدے کے لالچ میں انگار ہی بھر لئے۔ پانی کے نیچے سرنگ بنا دی تو بڑی بات ہوئی جس نے سمندر ہی ٹھہرا دیا اسے بھلا دیا ۔بھاگ بھاگ کر شائد تھک جائیں مگر سمیٹنے سے تھکتے نہ ہی رکتے ہیں۔ زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بھی جا کر دیکھ لیا ۔ یہاں بھی آہٹ میرے ہی قدموں کی ہے اور وہاں بھی میرے ہی قدموں کی۔ یہ قدم اسی زمین کے وفادار ہیں ۔ جب تک ان پر وزن رہتا ہے اسی سے بغلگیر ہوتے ہیں ۔ جس گھر کے رہنے والے نہ ہوں وہاں اناج بھر بھر کیا کرنا۔عقلمندی کی یہی بات سمجھنے کی ہے کہ دوست کو دوست رہنے دو۔ زمانہ کو نہ ستاؤ ۔ دور گزر جائے گا۔ زمانہ پھر بھی رہ جائے گا ۔

Next Page »

Blog at WordPress.com. | Theme: Pool by Borja Fernandez.
Entries and comments feeds.