Archive for July, 2010

ہم سب آزاد ہیں

Posted on July 24, 2010. Filed under: معاشرہ, نثری مضامین, پاکستان, جنگ آزادی ،ہیرو،, سفینہء محمود،, سیاست |

آزادی سے کیا مراد لی جاتی ہے ۔کسی بیرونی طاقت کے تسلط سے چھٹکارا پانا۔ یا اپنے فیصلے خود سے کرنا ۔آزادی کی تحریکوں کی تاریخ بہت پرانی ہے ۔ جب بھی کبھی کسی بیرونی آقا نے عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے تو اس کے رد عمل میں تحریک قائدین نے اپنا [...]

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

شوکن میلے دی

Posted on July 23, 2010. Filed under: معاشرہ, نثری مضامین, سفینہء محمود،, شوقین |

نام سے چونکیں نہیں کہ یہ کس موضوع پر اظہار خیال کا انداز فکر ہے ۔ ویسے ہی سنجیدہ موضوعات سے ہٹ کر کچھ نیا لکھنے کا دل چاہ رہا تھا ۔ سوچتے ہوں گے کہ چاہنے کو تو اور بھی بہت کچھ ہے ۔مگر یہ کیسی چاہ ہے ۔ جو گزرے وقتوں کی اکلوتی [...]

Read Full Post | Make a Comment ( 6 so far )

پتھر بھی بول اُٹھے

Posted on July 21, 2010. Filed under: نثری مضامین, پتھر،, زندگی, سفینہء محمود |

معمولات زندگی کے شب و روز ایسے گزرتے ہیں ۔کہ اگر خاموش رہیں تو سینہ پتھر ہو جائے ۔بول اُٹھیں تو جیسےپتھر لاوہ بن کر بہہ نکلے۔پھولوں کی طرح کھلتے ہوئے مسکرانا ، بھینی بھینی خوشبو کی طرح پھیل جانا محض محاورہ کی دنیا کی دل نشینی تک محدود ہے ۔جو آنکھوں میں خواب جاگنے [...]

Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

صحت کی دعا

Posted on July 19, 2010. Filed under: دعا،بیماری ،صحت، |

ہم سب کی دعا ہے کہ معظم شاہ صاحب کی زوجہ محترمہ کو اللہ تبارک تعالی صحت و تندرستی کی نعمت عطا کرے ۔ جلد از جلد اپنی بیماریوں کو شکست فاش دے کر گھر کے گلستان میں پھول سے بچوں میں خوشبو کی طرح بسی رہیں۔اور بیماریاں کانٹوں کی طرح سوکھ کر فنا ہو [...]

Read Full Post | Make a Comment ( 8 so far )

چینی کم

Posted on July 18, 2010. Filed under: معاشرہ،چینی ،سیاست،سفینہء محمود،،, نثری مضامین, پاکستان |

چائے میں کتنے چمچ چینی چاہیں گے آپ ۔چینی کیااپنی انگلی محبت سے ڈال دیں چاشنی پوری ہو جائے گی ۔ بہت گھسا پٹا جملہ ہےآج سنانے کی کیا ضرورت آ گئی۔ سنانا توکھری کھری چاہتا ہوں مگر کئی بار پڑھ چکا ہوں اور کئی بار شائد کسی ڈرامے یا فلم میں سن چکا ہوں [...]

Read Full Post | Make a Comment ( 8 so far )

جو سمجھتے ہیں کامیابی ان کو ہے

Posted on July 18, 2010. Filed under: معاشرہ, نثری مضامین،جھوٹ ،, سفینہء محمود، |

سچ کہنا اور لکھنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ سننا ۔ بچپن ہی سے تحسین و پزیرائی کی ایسی عادت پروان چڑھتی ہے کہ زندگی بھر انسان اچھا سننے کو ہی اچھا سمجھتا ہے ۔نہ جانے آئینے میں کیا خوبی ہے کہ وہ سچ دکھاتا ہی نہیں یا اس میں نظر کا قصور ہے [...]

Read Full Post | Make a Comment ( 8 so far )

پنکھ ہوتے تو اُڑ جاتے

Posted on July 14, 2010. Filed under: معاشرہ, نثری مضامین, جنگ آزادی ،ہیرو،, سفینہء محمود، |

ہواؤں کا چلنا ، بادل کا اُڑنا ،بارش کا برسنا ، پہاڑوں پر برف کا جمنا ، پھولوں کے کھلنے کا اپنا وقت ، پھلوں کے پکنے کا اپنا، ایک موسم میں ایک فصل کا ہونا ،پرندوں کا چہچہاتے ہوئے صبح کا آغاز اور چہچہاتے ہوئے ہی دن کا اختتام، کسی بھی بے چینی کے [...]

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

زن آٹے دارتھپڑ کی گونج

Posted on July 14, 2010. Filed under: معاشرہ, نثری مضامین, سفینہء محمود،, طنز و مزاح، |

ڈاکٹر ڈین کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ کی گونج کئی بار سنائی دی ۔ تھپڑ تو ایک بار ہی پڑا تھا ۔ مگر فلم کرما کئی بار دیکھی گئی ۔جیلر کو پلٹ کو ڈاکٹر ڈین کا دھمکانا کہ وہ اس تھپڑ کی گونج بھولے گا نہیں ۔ جیلر چاہتا بھی یہی تھا کہ [...]

Read Full Post | Make a Comment ( 6 so far )

« Previous Entries

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.